گرد و نواح

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - آس پاس کا علاقہ، پڑوس، قرب و جوار۔ "جنوبی گرم ہوائیں . نیل کے گرد و نواح میں اتنی ناخوشگوار تبدیلی لے آتی ہیں۔"      ( ١٩٨٠ء، دجد، ٢٦ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'گرد' کے ساتھ 'و' بطور حرف عطف لگا کر عربی زبان سے ماخوذ اسم 'نواح' لگا کر مرکب عطفی 'گردونواح' بنا۔ ١٨٠٣ء کو "اخلاق ہندی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آس پاس کا علاقہ، پڑوس، قرب و جوار۔ "جنوبی گرم ہوائیں . نیل کے گرد و نواح میں اتنی ناخوشگوار تبدیلی لے آتی ہیں۔"      ( ١٩٨٠ء، دجد، ٢٦ )

جنس: مذکر